Articles by "Animals Health Tips & Tricks"


اسلام علیکم!
پچیس ساہیوال گائے کے فارم کی فزیبلٹی

خرچ برائے جانوراں
پانچ عدد گائے تازہ سوئی ہوئی قیمت ساڑھے سات لاکھ
پانچ عدد پانچ ماہ کی گھبن گائے قیمت ساڑھے چار لاکھ
پانچ عدد بچھڑیاں عمر اٹھارہ ماہ قیمت تین لاکھ
پانچ عدد بچھڑیاں عمر ایک سال قیمت دو لاکھ
ایک خالص ساہیوال بیل قیمت دو لاکھ
جانوروں کی خریداری کیلئے خرچ پچاس ہزار
ٹوٹل خرچ برائے جانور خالص ساہیوال ساڑھے اُنّیس لاکھ

جانوروں کی جگہ کا خرچ
دو کنال حویلی ذاتی
اسٹور کا کمرہ اور ملازمین کیلئے کمرہ اور باتھ روم قیمت چار لاکھ
موٹر پانی والی بورنگ دو سو فٹ پچیس ہزار
چارہ مشین پندرہ ہزار
جنریٹر ساٹھ ہزار
کھرلی بنانا پچاس ہزار
برآمدہ بنانا دو لاکھ
پانی والی حوض تیس ہزار
خوراک کیلئے ڈرم بیس ہزار
مختلف اوزار دس ہزار
سیمن سلنڈر پینتیس ہزار
رسہ اور کِلے چھ ہزار
ایمرجنسی کیلئے میڈیسن پندرہ ہزار
ایک چھوٹا فریج استعمال شدہ پندرہ ہزار
الیکٹرک کولر فین پانچ عدد قیمت چالیس ہزار
ٹوٹل آٹھ لاکھ چھیہتر ہزار

جانوروں کیلئے ونڈہ اور خوراک کا خرچ
دیسی اشیاء اجوائن سونف اور کالا و سفید نمک وغیرہ قیمت دس ہزار
جَو پانچ من قیمت چھ ہزار
ہالیہ ایک من چار ہزار
السی دو من قیمت دس ہزار
گندم کا دلیہ دس من قیمت گیارہ ہزار
چوکر موٹا دس من قیمت دس ہزار
مکئ کا دلیہ بیس من قیمت اٹھارہ ہزار
کھل سرسوں بیس بیگ قیمت تیس ہزار
کھل تارا میرا پانچ من قیمت دس ہزار
کھل بنولہ دس بوری قیمت پندرہ ہزار
گُڑ ایک من قیمت چار ہزار
نمک سفید دو من پسا ہوا قیمت ایک ہزار
نمک سفید پتھر دس من قیمت پانچ ہزار
تیل سرسوں پانچ من قیمت پینتیس ہزار
مختلف عرقیات گلاب، سونف، اجوائن وغیرہ قیمت چھ ہزار
ٹوٹل ایک لاکھ چوہتر ہزار

زمین و پانی کے اخراجات
ایک عدد بور پلس پیٹر انجن ذاتی
پانچ ایکڑ زمین ذاتی
ٹریکٹر اور ہل قیمت سات لاکھ
ڈیزل چار سو لِٹر قیمت چالیس ہزار
ٹوٹل سات لاکھ چالیس ہزار

دو ملازمین کے اخراجات
ماہانہ تنخواہ تیس ہزار
ماہانہ خرچ پانچ ہزار
بجلی کا خرچ ماہانہ پانچ ہزار

سالانہ خرچ چار لاکھ اَسی ہزار
ڈاکٹر کا سالانہ بیس ہزار

کچھ اَن دیکھے اخراجات تقریباً ایک لاکھ تیس ہزار
کاشتکاری کا خرچ سالانہ پانچ لاکھ

کُل تخمینہ برائے اخراجات
خرچ خریدارئ جانوراں قیمت ساڑھے اُنّیس لاکھ
جانوروں کی جگہ کا خرچ آٹھ لاکھ چھہتر ہزار
ونڈا اور خوراک کا خرچ ایک لاکھ چوہتر ہزار
زمین و پانی کے اخراجات سات لاکھ چالیس ہزار
ملازمین کی تنخواہ اور خرچ چار لاکھ اَسی ہزار
ڈاکٹر کی فیس اور دوائیاں بیس ہزار
اَن دیکھے اخراجات ایک لاکھ تیس ہزار
کاشتکاری کا خرچ سالانہ پانچ لاکھ
کُل اخراجات۔ اڑتالیس لاکھ ستر ہزار
تقریباً پچاس لاکھ کی انویسٹمنٹ ہے

فارم کام کیسے کرے گا
آپ سب سے پہلے پانچ تازہ شیرخوار خریدیں اور ساتھ ساہیوال نسل کا بیل بھی لے آئیں
روزانہ کا دودھ پچاس کلو
ایک کلو کی قیمت ساٹھ روپے
روزانہ کی قیمت تین ہزار
ایک ماہ قیمت فروخت نوے ہزار
تین ماہ کی قیمت فروخت دو لاکھ ستر ہزار

دو ماہ بعد آپ چھ ماہ کی گھبن گائے خریدیں جو کہ تین ماہ کے بعد شیر خوار ہو جائیں گی
پہلی والی گائیوں کا دودھ کم ہوکر پینتیس کلو روزانہ ہو جائے گا
اور تازہ شیرخوار کا پچاس کلو روزانہ ہو گا اسطرح تین ماہ کے بعد روزانہ کی پیداوار پچاسی کلو ہوگی
ایک کلو کی قیمت ساٹھ روپے
پچاسی کلو کی قیمت اکیاون سو
ایک ماہ کی قیمت فروخت ایک لاکھ تریپن ہزار
اسطرح اگلے تین ماہ کی آمدنی چار لاکھ اُنسٹھ ہزار ہو گی
پہلے چھ ماہ کی آمدنی سات لاکھ اُنتیس ہزار بنے گی
چار ماہ گذرنے کے بعد آپ پانچ بچھڑیاں عمر اٹھارہ ماہ خرید لیں
چھ ماہ بعد ایک سال عمر کی بچھڑیاں خرید لیں
آپ کی پہلی پانچ گائے تقریباً ایک سال دودھ دیں گی اور دوسری کھیپ کے شیرخوار ہو کر تقریباً دس ماہ دودھ کی اوسط ساٹھ کلو روزانہ قائم رہے گی اسطرح دودھ کی آمدن درج زیل رہے گی
ایک کلو دودھ کی قیمت ساٹھ روپے
ساٹھ کلو کی قیمت چھتیس سو روزانہ
ایک ماہ کی آمدن ایک لاکھ آٹھ ہزار
نو ماہ کی آمدن نو لاکھ اٹھہتر ہزار
اِن نو ماہ میں پہلی پانچ بچھڑیاں کنفرم گھبن ہو جائیے ں گی اور تقریباً پانچ بچھڑیاں اور۔ پانچ بچھڑے ان گائیوں کے نو اور بارہ ماہ کی عمر کے ہو جائیں گے
اور پانچ بچھڑیاں جو آپ نے ایک سال کی عمر والی خریدی ہوں گی وہ گھبن ہونے کے قریب ہوں گی

اب ایک سال بعد آپ کے پاس درج ذیل اثاثہ جات ہونگے
دس گائے کھانگڑ مگر سات یا آٹھ کنفرم گھبن
پانچ بچھڑیاں کنفرم پانچ سے ماہ کی گھبن
پانچ بچھڑیاں ڈیڑھ سال سے زیادہ عمر کی اور دو یا تین گھبن دو ماہ کی
دس بچھڑے اور بچھڑیاں عمر تقریباً ایک سال
ٹوٹل تیس جانور اور ایک بیل
اور آپ نے خریدے بیس جانور
بھائیو! اگر آپ تین سال صبر کریں تو آپ کے پاس ستر سے زیادہ جانور ہوں گے اور پہلے سال کے بعد یہ اپنا خرچ بھی اپنے دودھ کی آمدن سے پورا کر لیں گے

نوٹ:- یہ سب میں نے اپنے ذاتی تجربہ کی بنیاد پر لکھا ہے اور یہ کسان بھائیوں کے لئے صرف گائیڈ لائن ہے میں غلط بھی ہو سکتا ہوں مگر برائے مہربانی فضول قسم کے کمنٹس سے پرہیز کریں آپ کا میرے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں



ساڑو کی شناخت
اکثر بھائی تب آکر مشورہ مانگتے ہیں جب بیماری عروج پر پہنچ جاتی ہے
آج آپکو آسان اور سستے ٹیسٹ بتائے جائینگے اگر پہلی بار پڑھنے سے سمجھ نہ آئے تو دوسری بار پڑھ کر ہر پندرہویں دن تمام دودھیل مویشیوں کا دودھ ٹیسٹ کیا کریں
ٹیسٹ کرنے کی وجہ سے بیماری کو ابتدائی مراحل میں ہی شناخت کیا جاسکتا ہے اور بروقت علاج سے تھن ضائع ہونے سے بچایا جاسکتا ہے
پہلا طریقہ کچھ یوں ہے
اجزاء:
جانوروں ساڑو کی شناخت اور علاج
جانوروں ساڑو کی شناخت اور علاج

پانی: ایک گلاس
سرف واشنگ پائوڈر؛ کھانے کے دو چمچے
چائے کے خالی پیالے یا کپ ؛ چار عدد
ململ کے کالے کپڑے کا چھوٹا سا ٹکڑا
طریقہِ واردات؛
سرف کو پانی میں ملاکر حل کرلیں
ہر پیالے میں تھوڑی مقدار میں ایک تھن کا دودھ دوہیں اسطرح چار پیالوں میں چار تھنوں کا دودھ ہو۔
پیالیوں میں دودھ دوہنے سے پہلے تھوڑا دودھ باہر گرانا چاہئے۔
دودھ سب پیالیوں میں برابر ڈایں 
ہر پیالے میں جتنا دودھ ڈالا ہے اتنا سرف کا محلول ڈالیں
اب ہر پیالے کا دودھ کپڑے سے علیحدہ سے چھانیں
جس پیالے کا دودھ پھٹا ہوا ہو، سمجھ لیں اس تھن پر ساڑو کی اثر ہو رہا ہے



دوسرا نسخہ؛
اجزاء؛
برتن دھونے والا لیقوئڈ؛ چالیس ملی لیٹر
پانی؛ ایکو سو پچاس ملی لیٹر 
فوڈ کلر کا محلول(تیز زردہ رنگ یا سبز رنگ مناسب ہے) ایک ملی لیٹر
طریقہ واردات؛
ان تمام چیزوں کو مکس کرکے محلول بنالیں اور کسی ڈھکندار بوتل میں ڈال لیں
ایک چمچ دودھ ہر تھن سے جدا جدا کپ میں لیں اور اس میں ایک ایک چمچ محلول ڈالیں اور ٹیسٹ کے رزلٹ کو نیچے دئے ہوئے پیمانے سے چیک کریں۔
نتائج؛
*دودھ عام دودھ کی طرح نظر آئے تو دودھ صحیح ہے
*دودھ تھوڑا گاڑھا ہو جائے گا مگر اس کی زیادہ مقدار عام دودھ کی طرح رہے تو ساڑو شروع ہونے کی علامت ہے
*دودھ جیلی کی طرح گاڑھا ہوجائے گا مگر اس میں تھوڑی سی مقدار عام دودھ کی طرح رہے تو ساڑو کچھ دنوں سے شروع ہے
*دودھ جیلی کی طرح مکمل گاڑھا ہوجائے گا تو سمجھیں ساڑو زور پکڑ چکا ہے
انگریزی علاج؛
ایلو پیتھک علاج میں ساڑو کا علاج کرنے کیلیے اینٹی بائیوٹک ادویات کا استعمال بھی کیا جاتا ہے جس میں اینٹی بائیوٹک میں ceftofer, amoxicilin, ampicilin, gentamycin, penicilin وغیرہ زیادہ تر استعمال کی جاتی ہیں پرہیز علاج سے بہتر ہے
ساڑو کی ویکسین اگر بروقت کروائی جائے تو بھی استفادہ ممکن ہے
دیسی علاج؛
اجزاء؛
لیموں 250 گرام
دودھ آدھا کلو
طریقہِ استعمال؛
لیموں کو کاٹ کر دودھ میں بھگو دیں اور اگلے دن صبح مسل کر جانور کو استعمال کرائیں یہ عمل 5 دن مسلسل کریں


دوسرا نسخہ؛
اجزاء؛
لال کٹی ہوئی مرچ 250 گرام
1 لٹر پانی
طریقہ استعمال؛
مرچ کو پانی میں اچھی طرح ابال لیں اور جب کھیر سی بن جائے تو اس میں 1پائو کوکنگ آئل ملا کر دو حصے بنا لیں اور دو دن میں یہ دونوں استعمال کرائیں
تیسرا نسخہ؛
اجزاء؛
دیسی لہسن 1پائو
دودھ 2 لٹر
سفید زیرہ 100 گرام
طریقہ استعمال؛ 
ان سب اجزاء کی کھیر روز بنا کر 5 دن تک کھلایں
احتیاطی تدابیر؛
*جانوروں کو متوازن خوراک دیا کریں صرف سبزہ یا صرف خشکا مفید نہیں مکس کرکے دیا کریں
*پینے کے پانی کا مستقل بندوبست کریں کہ جب جانور چاہے پی لے یا دن میں کم از چار بار پانی پلایا کریں 
*کھرلی میں نمک کا پتھر مستقل طور پر رکھیں 
*بازاری ونڈہ، منرل مکس اور ڈی سی پی جیسے گند سے پرہیز کریں
*دیسی اجناس کا ونڈہ بنوا کر کھلایا کریں اس میں وہ تمام چیزیں ہیں جو منرل مکس، ڈی سی پی اور بازاری ونڈے کا ملاکر بھی نہیں ملتیں 
*سائلیج نہ تو ونڈے کا متبادل ہے نہ اس سے دودھ دگنا ہوسکتا ہے بلکہ اگر سائلیج میں مائکوٹاکسن ہو تو سائلیج ایک زہر بن جاتا ہے جس سے جانور ہلاک ہوسکتا ہے لہذاٰ تازہ چارے کو ترجیح دیں
*گرما میں جانوروں کو سایہ دار، صاف جگہ مہیا کریں
*چوائی سے پہلے اور بعد میں حوانہ ضرور دھوئیں
*بچہ چوائی سے پہلے چھوڑیں چوائی کیبعد دودھ نہ پلائیں
*چوائی کیبعد جانور کو کم از چبھیس منٹ تک نہ بیٹھنے دیں
*جہاں جانور باندھتے ہیں وہاں چونے کا چھڑکاؤ کریں
طالب دعا
گجر ملنگ



ڈیری فارمنگ کی اہم معلومات
ڈیری فارمنگ کی اہم معلومات
ڈیری فارمنگ کی اہم معلومات

سب سے پہلے آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ فارم کو آپ کی 24 گهنٹے نگرانی کی ضرورت ہوتی ہے. یہ کوئی پارٹ ٹائم جاب نہیں کہ آپ دوسرے کام بھی کریں اور فارم بھی چلائیں ورنہ کسی تجربہ کار بندے کو پورا پورا اختیار اور ذمہ داری دینا چائیں. تین مقاصد کے لیے بنایا جاتا ہیں.
‏1) دودھ کے لیے
‏2) گوشت کے لیے
اور
‏3) بریڈنگ (تیار کرنا یا گھبن کرکے بیچ دینا) کے لیے
اس کے لیے علاوہ بڑے جانوروں کے تین اقسام کے فارم ہوتے ہیں. جن کے پالنے اور چلانے کا نظام الگ الگ ہیں.
‏1) بھینس فارم
‏2) دیسی اور کراس گاۓ فارم
‏3) ولائتی گاۓ فارم
چونکہ ان کے نگداشت اور علاج معالجہ کے مختلف طریقے ہیں اس وجہ سے ان کو مکس کرکے رکھنا ذیادہ علم اور ہنر چائیے.
دودھ یا گوشت پیدا کرکے بیچنے کا بھی نظام یا مارکیٹنگ تین دودھ یا گوشت پیدا کرکے بیچنے کا بھی نظام یا مارکیٹنگ تین ہیں.
‏1) خود فارم یا دکان پر بیجنا، اپنے پراسینگ پلانٹ پر پیک کرکے فروخت کرنا
‏2) گوالے یا مھٹائیوں والوں کو دینا.
‏3) کمپنی والوں کو دینا.
ان کے فوائد اور خرابی بھی الگ ہیں.
اس کے علاوہ آپ کے پاس فارم چلانے کے چار موثر مراحل ہیں جن میں ایک کی کمزوری آپ کو نقصان دے سکتی ہے.
‏1) جانوروں کا درست اور صحیح انتخا‏ب
جانور کا مناسب عمر، صحت اور پیداواری صلاحیت ہو.
فارم کے لیے بھنس کم از کم 10 کلو دودھ دے 18 مہینے کے اندر اندر دوسرا بچہ دیں. اگر دودھ 4 کلو سے کم کردے تو اپنے اخراجات کم کرکے اپ کو الٹا نقصان ہوگا. بہتر ہے کہ آپ اس کو فروخت کردے. یا چرانے کے لیے کسی کے حوالہ کردے. کمزور بھینس کو ‏Pronil 10 cc
imec plus 12 cc
nilzan plus 180 cc
دیں.
2) دیسی اور کراس گاۓ: اس قسم کے جانوروں میں بیماری کم ہوتی ہے. مگر ان کا پیداواری صلاحیت بھی اچھی نہیں ہوتے. دیسی گاۓ کو بنک بیلنس کے طور پر پالا جاتا ہے کہ غمی خوشی کے موقع پر بیچ کر یا ذبحہ کرکے آپ کا مسئلہ اور پریشانی ختم کرتا ہے. پاکستان میں ذیادہ تر موشیی پال حضرات اس وجہ سے کم دودھ والے جانور گھر پر رکھتے ہیں. یہ ان کے لیے نقد بنک چیک کا حثیت رکھتا ہے. دیسی جانور قربانی کے لیے بھی پسند کیں جاتے ہیں. اگر کسی نے دیسی گاۓ فارم کے لیے رکھنا ہو تو اس کا کم ازکم 14 کلو دودھ ہو. 6 کلو دودھ سے کم جانور جو گھبن نہ ہو خسارہ ہے.
کراس یا دوغلی نسل کے گاۓ. اگر دیسی گائیوں کے نسبت ان کا دودھ ذیادہ ہوتاہے مگر ان میں، چیچڑ، رت موترا، سوتک کا بخار ذیادہ دیکھنے کو ملتی ہے. بروقت حفاظت اور علاج سے ان مسا ئل کو قابو کیا جاسکتا ہے. اس قسم کے جانوروں کا دودھ کم از کم 18 لیٹر ہونا چائیے. 8 لیٹر سے کم گاۓ جو گھبن نہ ہو خوراک اور نظام کے اخراجات پورا نہیں کر سکتے. ان میں دو بچوں کے درمیان ذیادہ سے ذیادہ وقفہ 14 ماہ ہونا چائیے.
ولائتی یا اسٹریلین گاۓ: یورپ، امریکہ، اسٹریلیا اور نیوزی لینڈ ان کا ابائی ممالک ہیں. ان گائیوں کی وجہ دنیا کا دودھ تین گنا ذیادہ ہوا ہے.
پاکستان، بھارت اور عرب ممالک میں ان جانور کو کھلے ماحول میں رکھنا تقریبا ناممکن ہے. ان جانوروں سے اچھے نتائج لینے کے لیے
درجہ حرارت + نمی تناسب= 100 سے ذیادہ نہ ہو( یعنی اگر درجہ حرارت 40 ہو تو نمی کا تناسب 60 سے اوپر نہ ہو)
اس وجہ سے ان کو کنٹرول شیڈز میں رکھنا ضروری ہے.
ان کو چیچڑ کے ٹیکے بروقت لگانا.
رت موتر سے بچانے کے ٹیکے.
بروسیلا ، منہ کھر، گل گھوٹو، لنگڑی کے بخار کے حفاظتی ٹیکے بروقت لگانا. اگر بیماری آجاۓ تو وقت پر علاج کرنا تاکہ بڑے نقصان سے بچاجاسکے.
اس کے علاوہ خوراک میں ونڈا، سیلج، نمکیات، بائی پاس فیٹس اور مھٹا سوڈا شامل کرنا بے حد ضروری ہے.
‏2) جانوروں کا نظام : اس میں جانوروں کو دودھ، گوشت، عمر اور افزائش نسل کے اعتبار سے الگ الگ کرکے ان کو خوراک مہیا کرنا.
جانوروں کو وقت پر گھبن کرنا. بھینس کو اکتوبر نومبر میں سانڈ کے ساتھ چھوڑنا. جبکہ گاۓ کو بچہ دینے کے 15 دن بعد کنسپٹال یا ڈلمیرالین ٹیکا لگانا.
‏55 دن کے بعد ای میٹ، سائیکومیٹ یا لیوٹالیز کا انجکشن لگانا تاکہ 90 دنوں کے اندر اندر دوبارہ گھبن ہو. جو گاۓ بھینس گھبن نہ هو ان کو سرسوں کا تیل پلا یا کریں. اس بات کا خیال رہے کہ شدت سردی اور گرمی میں جانور بہت کم گرم ہوتے ہیں. جو جانور بار بار بچہ گراۓ یا گرم ہو ان کا خون لے کر انسانی لیب سے بروسیلہ کا ٹیسٹ کرواۓ ( گاۓ کے بجاۓ انسان کا نام درج کرنا پڑتا ہے . کیونکہ اکثر لیب والے ٹیسٹ سے انکار کرتے ہیں حالانکہ ٹیسٹ کا طریقہ اور اصول ایک ہی ‏ہے)
جو گاۓ بھینس گھبن نہ ان کو سرسوں کا تیل پلا یا کریں
جس کا بروسلہ ہو اس جانور کا علاج نہیں ہوسکتا اس کو ذبحہ کرکے زمین میں پانچ فٹ کے اندر دفن کردیا جاۓ. ذبحہ کرتے وقت ہاتھوں کو دستانے پہناۓ، خون کو اچھے طریقے سے صاف کرنا ضروری ہے.
جو جانور18 دن سے پہلے بار بار گرم ہو اس کو کنسپٹال 5 سی سی لگانا.
جو جانور موکس پیلا یا دودھیا نکالے اس کو سائی کلومیٹ لگاو، پین بائیوٹک کے دو دو ٹیکے تین دن لگاو.
‏4) خراب اور ناکارہ جانوروں کی فروخت: چونکہ ہر چیز نے فنا ہونا ہے. اس کے علاوہ مسلمان کا محنت کے ساتھ ساتھ تقدیر پر بھی ایمان ہے. اس وجہ سے جو جانور مطلوبہ معیار اور امید پر پورا نہ اترے تو اس کو وقت پر فروخت کرکے‎ ‎‏ نقصان کو 3 وجوہات سے کم کیا جاسکتا ہے.
‏1) اس سے فارم میں چارے اور مزدور کا بچت ہوتاہے.
‏2) ادویات، وقت اورتھکان سے بچایا جاسکتا ہے.‏
‏3) کچھ نہ کچھ پیسے مل جاتے ہیں اور جانور ضائع ہونے بچ کر معاشرے کے روزی کا سبب بنتا ہے.‏
اگر درجہ بالا باتوں کا خیال رکھا جاۓ تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ اپنے ڈیری فارم کو کامیابی سے نہ چلا سکے.‏
پاکستان بھر میں ڈیری فارمرز کی خدمت میں پیش پیش.‏
اپ کے دعاوؤں کا طالب
فقط ڈاکٹر سرتاج خان‎

اگر آپ دودھ کو گرم کرکے استعمال نہیں کرتے اور جانور کو مندرجہ ذیل بیماریاں ہو تو وہ آپ کو لگ سکتے ہیں

انتراکس
پرا ٹائیفائیڈ
گلے کی خرابی
ٹی بی
گردن تھوڑ بخار 
معیادی بخار (بروسیلہ
ہیضہ
معدے اور انتوں کا زخم
ٹائیفائڈ
Anthrax
Diphtheria 
Paratyphoid 
Septic sore throat
Tuberculosis 
Undulent Fever
Cholera
Dysentery 
Gestro Entritis
Scarlet Fever
Small pox
Typhoid fever
مہربانی کرکے دودھ پہلے جوش دیکر گرم کرے
پھر فریج میں ٹھنڈا کرکے استعمال کرے
محفوظ رہے
صحت مند رہے
اگر کسی کو اعتراض ہو تو وہ اپنا مرضی کرے لیکن دوسروں کو دودھ گرم کرکے استعمال کرنے سے دور رہے
یہ پوسٹ مفاد عامہ کے خاطر لکھ دیا ہے
شکریہ



ڈی ورمنگ کیا ہے؟ ڈی ورمنگ کیوں ضروری ہے؟ ڈی ورمنگ کی احتیاطی تدابیر اور طریقہ کیا ہے؟



اس موضوع پر تفصیلی ویڈیو دیکھیں:





جواب: ورم انگریزی زبان میں کیڑوں کو کہا جاتا ہے اس وجہ سے جو دوائی کیڑے ختم کرے اس کو ڈی ورمر کہا جاتا ہے۔جبکہ کیڑے ختم کرانے کو ڈی ورمنگ کہا جاتا ہے۔
ڈی ورمنگ اس لیے ضروری ہے کہ جانور جو چارہ کھاتا ہے وہ کچا اور تازہ ہوتا ہے۔ (انسانوں میں پیٹ کے ورم کھانا پکانے اورتیل میں تلنے سے کم کم رہتا ہے) کیڑوں کے انڈے  چارہ جات کے ساتھ جانور کے پیٹ میں جاکر بڑے بڑے کیڑوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں. یہ کیڑے نر اور مادہ پر مشتمل ہوتے ہیں. جو جنسی ملاپ سے دوبارہ انڈے ڈالتے ہیں جو گوبر کے ساتھ چمٹ کر دوبارہ کھیت میں موجود پودوں کے پتوں کو لگ جاتے ہیں ۔ اس طریقہ سے کیڑوں کے انڈے بیمار جانوروں سے صحت مند جانوروں کو پھیل جاتے ہیں۔ کھرلیوں کی صفائی نہ کرنا اور گوبر کا وقت پر نہ اٹھانا بھی ایک وجہ ہے ۔ اگر کسی گائے کا تھن گوبر سے گندہ ہو اور اس کا بچھڑا اس کو پیتا ہے تو دودھ پیتے بچھڑے کو کیڑوں کا مسئلہ پیدا ہوجاتا ہے۔
جانوروں کے پیٹ میں کیڑوں کی وجہ سے ان کی صحت دودھ اور گوشت کی پیداوار میں کمی آجاتی ہے۔
کیڑوں کی اقسام:
جانوروں میں کیڑ ے دو قسم کے ہوتے ہیں
اندورنی کیڑے
بیرونی کیڑے
اندرونی کیڑے:
یہ گول ،چپٹے، فیتانما اور  لمبے ہوتے ہیں۔
ویسے تو اندرونی کیڑوں کی بے شمار اقسام ہیں لیکن ان میں جو ذیادہ نقصان دہ ہیں ،وہ یہ ہیں:
جگر کے کیڑے:
ان کو لیور فلوک Lever Flukeبھی کہتے ہیں.۔یہ جگر کو کھاجاتے ہیں اور اس کو تباہ کردیتے ہے۔ جس علاقے میں گونگے ‏SNAIL‏ ذیادہ ہو ں وہاں پر جانوروں میں لیور فلوک ذیادہ رہتا ہے۔ چاول کے پریالی کھلانے سے یہ مسئلہ ذیادہ دیکھنے کو ملتا ہے۔
اوجھڑی کے کیڑے:
یہ انار دانہ کی شکل کا ہوتا ہے اور  جانور کا خون چوستا رہتا ہے۔
آنت کے کیڑے:
یہ ذرہ بڑی شکل کے ہوتے ہیں، ان کی بے شمار اقسام ہیں۔ یہ کیڑے  جانوروں میں بدہضمی، بادی گیس اور دست کی وجہ بنتے ہیں۔  شدید حالت میں گلے اور پیٹ میں پانی بن جاتا ہے۔  ملف اور ٹیپ وارم ان اقسام کے دو اہم ورم ہیں۔
پیھپڑوں کے کیڑے:
جو کھانسی اور نمونیا کی وجہ بنتے ہیں۔
انکی موجودگی کی نشانیاں:
گوبر پتلا اور بدبودار ہونا۔
آنکھوں سے پانی اور گند کا نکلنا۔
سستی ہو جانا۔
جانور کا سوکھ جانا۔
جبڑے کے نیچے پانی کا جمع ہونا۔
جوڑوں پر ورم آنا۔
بالو ں کا جھڑنا۔
جِلد کھردری ہونا۔
اگر یہ نشیانیاں ہیں تو  جا نور کی ڈی وارمنگ کریں۔

بیرونی کیڑے:
یعنی چمڑے کے کیڑے:
جیسے کہ چیچڑ ۔ جوئیں ۔ پسو وغیرہ
یہ تو عام ہیں، ان کے علاوہ  ایک مچھر نما کیڑا ہوتا ہے جو کہ بل فلائی کہلاتا ہے ۔ یہ جانور کی ناک میں انڈے دے دیتا ہے ۔اس کے انڈے چمڑے میں پہنچ کر بالغ ہوجاتے ہیں۔ جس سے جانور کی کمر پر زخم دانے اور پھنسیوں سے سوراخ ہوجاتے ہیں۔
انکی موجودگی کی نشانیاں:
اسکے لیےآپ اپنے جانور کا خیال ر کھیں ان کو  چیک کرتے رہیں۔
جانور کاکھجلی کرنا۔
جسم کا دیوار وغیرہ سے رگڑنا۔
جانور کے جسم سے خون رسنا۔
ڈی ورمنگ کرنے سے پہلے کرنے کے کام:
سب سے پہلے جانورکے گوبر کا ٹیسٹ کراکر کیڑوں کی قسم اور اس کے مطابق دوائی کا انتخاب کیا جاتاہے۔
اگر لیباٹری ٹیسٹ کسی وجہ سے ممکن نہ ہو تو مندرجہ ذیل علامات میں کوئی سی ایک علامت  کیڑوں کی نشاندہی کر دے گی۔
‏1) جانور کو دست ہو ں لیکن چارہ پورا کھاتاہو اور سبز چارے کے ساتھ توڑی مکس ہو۔ دست سے بد بو آتی ہو۔
‏2) گلے، پیٹ اور حیوانے کے آگے ناف میں پانی بھرا ہو۔اور   جانور اپنے دودھ کی مقدار کم کردے۔
‏3) جانور کی آنکھ کا پوٹا اگر الٹا کرکے دیکھو تو پیلا یا سفید نظر آئے، جانور لاغر ہوجائے  اور اس کی پسلیاں دور سے نظرآنے لگیں۔
‏4) جانور ہیٹ میں نہ آئے، اس کی آنکھوں سے پانی بہے، دانت پیستا ہو اور چمڑا سوکھا ہوا محسوس ہو۔ آخری والی علامت بشتر بیماریوں میں ہوتی ہے۔ اس لیے دوسرے علاج کے ساتھ ڈی ورمنگ کی جائے۔
ڈی ورمنگ کا طریقہ کار:
جس جانور کی ڈی ورمنگ مقصود ہو اس کو رات سے نیم پیٹ آدھا چارہ دیا جائے۔صبح دودھ اترانے کے بعد اس کو تھوڑا سا گڑ یا چینی دیں اور آدھے گھنٹے بعد دوائی  پلا دیں اسکے بعد دو گھنٹے  تک کچھ نہ دیں ۔ پھر روٹین کی خوراک دیں۔
کوئی بھی دوائی پلاتے وقت   جانور کی زبان نہ پکڑیں اور اس کا منہ آسمان کی طرف نہ ہو۔
 ورنہ جانور کو وقتی کھانسی کے بعد نمونیا ہوجائےگا۔ اس نمونیا کو ڈرنچنگ نمونیا Drenching Pneumoniaکہا جاتا ہے۔ جو جانور زیادہ مزاحمت کرے اس کے ساتھ ڈنگر مشتی سے اجتناب کیاجائے۔چوکر میں دوائی ڈال کر جانور کے آگے رکھ دینے سے جانور دوائی ملا چوکر کھا لیتا ہے۔
ڈیوارمنگ کی دوائی پلانے کے بعد موشن لگ جاتے ہیں انہیں روکنے کی کوشش نہ کریں خودٹھیک ہو جاتے ہیں 15دن کے بعد دوبارہ ڈی وارمنگ کریں کیونکہ کیڑے پہلی ڈی وارمنگ سے مر جاتے ہیں لیکن ان کے انڈے رہ جاتے اس لیے ان کو ختم کرنے کے لیے دوبارہ ڈی وارمنگ کریں۔
جب ڈی وارمنگ مکمل ہو جا ئے تو تین مہینے کے بعد ڈی وارمنگ کریں اور دوائی کا فارمولہ تبدیل کر دیں۔

احتیاطی تدابیر:
 چونکہ ڈی ورمنگ ایک قسم کا زہر پلانا ہے۔اس وجہ سے یہ شدید گرمی، شدید سردی، بارش میں نہ کی جائےاس طرح 3 ماہ سے کم گابن جانور کی  ڈی وارمنگ نہ کی جائے۔
تازہ سوئے  جانوروں کو 20 دن کے بعد ڈی ورمر دیا جاتا ہے۔ بہتر ہے کہ 35 دن بعد دیا جائے۔

پاکستان میں دستیاب  ذیادہ  فائدے اور کم سے کم مضر اثرات والے ڈی ورمر  انجیکشن اور ادویات کے نام:
Curazole
اس میں فین بنڈازول 10 فیصد شامل ہے۔ جس کی خوردہ قیمت 2200 کے لگ بھگ ہے۔ یہ وسیع الاثر کرم کش دوائی ہے۔ بڑے جانور کو 30 سے 40 سی سی دوائی دی جاتی ہے۔
Trodax
اس میں نٹروکسِنل    Nitroxinil   34  فیصد شامل ہے۔ یہ جگر کے کیڑوں کو ختم کرنے کی بہترین اور محفوظ دوائی ہے۔ ٹروڈیکس کی خوردہ قیمت 4014         روپے فی 100 سی سی بوتل ہے۔
یہ  ایک  بڑے جانور کو 15 سی سی زیر جلد لگایا جاتا ہے۔

 Cerex یا Vorcid یا ‏ Trimax , Triclev
اس میں شامل ٹِرکلا بنڈازول     Triclabendazole   اور لیوا می سول یا اکسفنڈازول سب سے وسیع الاثر کرم کش دوائی بن جاتی ہے۔اس دوائی کی قمیت 1655 سے 2950 روپے فی لیٹر ہے۔ بڑے جانور کو 50 سی سی دوائی دی جاتی ہے۔
Valbazen , Albendazole 5 gram Granules, Alba Plus , Trazazole, Albevet
یہ البنڈازول ‏10 فیصد دوائی ہے۔ جو تقریبا تمام کرم کو ختم کرتا ہے۔ اس کی خوردہ قیمت 1650 سے 2770 فی لیٹر ہے۔ فی بڑا جانور 50 تا 70 سی سی دوائی دی جاتی ہے۔

Nilzan Plus, Nilvet Plus, Zanil
یہ آکسی کلوزینائیڈ   Oxyclozanide اور لیوا می سول         Levamisole کا مرکب ہے۔
آکسی کلوزانیڈ جانور کو عارضی دست لگانے والا عنصر ہے۔ یہ جگر کے بالغ کرم مارتا ہے جبکہ نومولود اور انڈے نہیں مارسکتا۔ اس وجہ سے یہ دوائی 21 دن بعد دوبارہ استعمال کرنا لازمی ہے۔ ورنہ فائدہ نہیں۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ جس جانور کو دیرنیہ لیورفلوک کا مسئلہ ہو ،اس میں آکسی کلوزانیڈ جبکہ یکدم لیور فلوک میں ٹیکلابنڈازو ل  Triclabendazole   ، البنڈازول Albendazole اور نٹرواکسانل    Nitroxinil   شاندار اثر دکھاتے ہیں،
جبکہ آخرالذکر ادویات کو صرف ایک بار دینے سے لیور فلوک یعنی جگر کے کرم کے بالغ اور نابالغ کرم سمیت اس کے انڈے بھی ختم ہوجاتے ہیں۔
نلزان پلس Nilzan Plus کو فی بڑا جانور 150 سی سی تک دیا جاتا ہے۔  اس کی خوردہ قیمت فی لیٹر 1307 روپے ہے۔

Endectin, Imec, Ivomec, Ivotek, Wormec
اس میں شامل 1 فیصد آئیور میٹکن ہے۔ جو کہ جگرکے کرم اور ٹیپ ورم کے علاوہ تقریبا تمام کرم ختم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ چیچڑ اور جو کو ختم کرتا ہے۔  یاد رکھیں کہ آئیورمیکٹن روشنی اور گرمی سے جلدی خراب اور ضائع ہوجانے والا دوائی ہے۔ اس کے علاوہ یہ اپنی مطلوبہ مقدار سے ذرہ  ذیادہ استعمال کرنے پر اچھا اثر دکھاتی ہے۔ اس وجہ سے اس کو برف اور فریج میں ٹھنڈا کرنے کے بعد رات کو استعمال کرنا چاہیئے  یا جانور کو ٹھنڈی اور سایہ دار جگہ پہ کھڑا کرنا  چاہیئے۔
Ivotek Drench
انجکشن کے علاوہ یہ دوائی بذریعہ منہ بھی دی جاتی ہے
اس کے علاوہ سرسے دم تک 20 قطرے،اور  کمر کے چمڑے پر ‏POUR ON‏ دوائی بھی ملی جاتی ہے۔

Nilverm, Elko Levazan , Levazole
اس میں لیوامی سول موجود ہوتا ہے جو کچھ کرم کو ختم کرتا ہے۔ لیکن اس سے بڑی بات؛ اس کا مدافعت کو اعتدال پر لاکر دوسری بیماری کو قدرے ٹھیک کرنا ہے۔ اس کو ساڑو میں دوسری ادویات کے ساتھ دیا جاتا ہے۔

Niclozole , Niclosole‏ ‏
یہ ٹیپ ورم کے لیے استعمال کیا جاتی ہے۔ جس میں لیوامی سول بھی شامل ہے۔

Thundr , Punch
اس میں دو تین کرم کش ادویات شامل ہیں  جو وسیع الاثر دوائی بن جاتی ہے چونکہ یہ پاکستان کے مقامی دوا ساز کمپنی بناتی ہے۔ اس وجہ سے اس کی قیمت بھی نہایت مناسب ہے۔ جبکہ اثر میں بھی کسی سے کم نہیں۔

نوٹ:
تمام ڈی ورمر دودھ کی مقدار 3 سے 5 دن تک تھوڑا کم کرسکتے ہیں. سوائے ائیورمیکٹن اور لیوامی سول کے۔
اگر بکری گابن ہے یا اس نے ابھی ابھی بچہ دیا ہے تو اس کی ڈی وارمنگ نہیں ہوگی، کیونکہ ابھی بچہ اس کا دودھ پی رہا ہوگا۔
اسی طرح نومولود بچوں کی بھی ڈی وارمنگ نہیں ہوگی  کیونکہ ان کی اوجھڑی کمزور ہوتی ہے۔

اگر آپ کو ان دوائیوں میں سے کوئی دوائی میسر نہیں تو ایک دیسی علاج بھی ہے ڈی وارمنگ کرنے کا، وہ یہ ہے کہ
آپ انار کے چھلکے سکھا لیں اور جب وہ سوکھ کر اک دم کڑک ہو جائیں تو ان کو گرینڈ کر کے پیس کر ان کا پاؤڈر بنا لیں اور وہ پاؤڈر ایک چائے کا چمچ دینا ہے۔
اب اس میں اگر ایک سال تک کا یا سال سے کم عمر کا بچہ ہے تو اس کو ایک چائے کا چمچ کھلا دینا ہے۔
اس سے بڑا بکرا ہویعنی 40 سے 50 کلو وزن تک کا تو اسے دو چمچ کھلا دینا ہے۔
اس سے بڑا بکرا ہوگا یعنی 60 سے 80 کلو کا تو اسے تین چمچ کھلا دیں۔
اور اگر 100 کلو کا بکرا ہے تو چار چمچ بھی کھلا سکتے ہیں۔



Trending

[random][gallery2]

Cattle Farming Tips & Tricks

[Cattle%20Farming%20Tips%20%26%20Tricks][fbig1]

MKRdezign

Contact Form

Name

Email *

Message *

Powered by Blogger.
Javascript DisablePlease Enable Javascript To See All Widget